ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو : مللی پیٹھ مسجد میں مندر کے باقیات ملنے کا تنازعہ - بیرونی افراد کی مداخلت کا نتیجہ 

منگلورو : مللی پیٹھ مسجد میں مندر کے باقیات ملنے کا تنازعہ - بیرونی افراد کی مداخلت کا نتیجہ 

Sat, 23 Apr 2022 13:53:57    S.O. News Service

منگلورو ،23؍ اپریل (ایس او نیوز) شہر کے مضافات گنجی مٹھ  علاقے کے مللی  پیٹھ میں واقع پرانی مسجد کی تجدید کاری کے دوران وہاں پر مندر کے باقیات پائے جانے کا جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے اس پر مقامی غیر مسلم افراد بھی اپنی فکر مندی کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے بیرونی افراد کی مداخلت کا نتیجہ مانتے ہیں ۔
    
خیال رہے کہ مللی پیٹھ میں قدیم  جمعہ مسجد کو ازسر نو تعمیر کرنے کے لئے جب دیواریں وغیرہ ڈھانے اور بنیادیں کھودنے کا سلسلہ ع ہوا تو سنگھ پریوار کے لیڈروں نے  یہاں مندر کے باقیات پائے جانے کا شوشہ سوشیل میڈیا پر چھوڑا جس کی وجہ سے ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ یہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا ہے جہاں سے تعمیری کام پر عبوری اسٹے اور جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
    
مقامی لوگوں کی فکر مندی :ایک معتبر اخبار کے ساتھ اس تنازعہ پر بات کرتے ہوئے بوبو پجاری نامی ایک شخص نے بتایا کہ میں اسی مسجد کے اطراف میں پلا بڑا ہوں ۔ چھوٹی عمر سے ہی مجھے اس مسجد سے واسطہ پڑا ہے ۔ ہم لوگ راجا راجیشوی تہوار کے موقع پر اسی مسجد کے سامنے سے پیدل گزرتے تھے ۔ میں یہاں کے پرائمری اسکول میں پڑھا ہوں ۔ اس زمانے میں بھی مسجد کی یہی کھپریل کی چھت موجود تھی ۔ گاوں میں ہندو مسلم کے درمیان بڑا اچھا بھائی چارہ تھا ۔ اس واقعہ کا مقامی ہندووں اور مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ باہر کے لوگوں کا کیا دھرا ہے ۔ اس سے گاوں کے مسلمانوں کو دکھ ہوسکتا ہے ۔ اسے صبر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے ۔ خدا ان کو صبر دے ۔ مجھے امید ہے کہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا ۔

اسی مسجد کے قریب  گزشتہ 75 برس سے رہنے اور ٹیلرنگ کی دکان چلانے والے سدھاکر ٹیلر کا کہنا ہے کہ یہاں پر ہندو مسلم بھائی چارگی کا بہترین ماحول ہے ۔ عرس کے موقع پر ہندو لوگ مسجد جا کر نذرانہ پیش کرکے کھانا پینا قبول کرتے ہیں ۔ یہاں پر ہندو مسلمانوں کے بیچ  پیدا ہونے والے چھوٹے موٹے مسئلہ کو ہم جیسے سینئر لوگ ہی مل بیٹھ کر حل کرتے رہے ہیں ۔ اس سے پہلے اس قسم کا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا ۔ 

گرام پنچایت صدر کا موقف :گنجی مٹھ گرام پنچایت کے صدر نونیا کا کہنا ہے کہ مقامی اداروں  کے افراد نے مسجد کی تعمیر نو کے لئے دیا گیا اجازت نامہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اجازت منسوخ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی بات انہیں بتادی گئی ہے ۔ فی الحال معاملہ کی تحقیقات چل رہی ہے ۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی تعمیری کام آگے بڑھانے کی ہدایت کے ساتھ مسجد والوں کو نوٹس دی گئی ہے ۔ ہمارے نوٹس دینے سے پہلے ہی ان لوگوں نے تعمیراتی کام روک دیا ہے ۔ ایک ہفتے کے اندر اس مسئلہ کو حل کر لیا جائے گا ۔

مسجد میں داخلہ پر روک :مسجد کے اندر پرانے مندر کے باقیات ہونے کا شوشہ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوجانے کے بعد مسجد کا معائنہ کرنے کے لئے آس پاس کے تماش بینوں کا ہجوم امڈ پڑا ۔ معاملہ کو سنسنی خیز ہونے اور خواہ مخواہ کی افواہیں پھیلانے سے روکنے کے لئے مسجد کمیٹی کے ذمہ داران نے ضلع ڈپٹی کمشنر نے ملاقات کرکے تعمیراتی کام کے مقام کو پلاسٹک سے ڈھانکنے کا کام کروایا ۔ مسجد کے اطراف پولیس کا پہرا لگا دیا گیا ہے ۔ دوسرے گاوں کے تماش بینوں کے علاوہ میڈیا والوں کے لئے  بھی اندر جانے پر روک لگا دی گئی ہے ۔ 
    
عدالت کی طرف سے روک : ہندو جاگرن ویدیکے اور وشوا ہندو پریشد والوں نے منگلورو کی سول عدالت میں درخواست داخل کی تھی کہ مسجد کی تعمیر نو کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس پر فوری طور پر عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگلا فیصلہ آنے تک پرانے ڈھانچہ کو منہدم نہ کیا جائے اور اسٹیٹس کوو برقرار رکھا جائے ۔ عدالت میں اس معاملہ کی اگلی سماعت 3 جون کو ہوگی ۔
    
 حالانکہ ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار نے شروع میں ہی متنازع مقام پر پہنچ کر معائنہ کیا تھا اور ایک ہفتے کے اندر تحقیقات پوری کرنے اور مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا ، مگر اب چونکہ سنگھ پریوار کی طرف سے معاملہ عدالت میں پہنچادیا گیا ہے ، اس لئے اس کے جلد حل ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ 
    
مسجد کی تعمیرنو سوسائٹی کے خزانچی محی الدین حاجی ایم ایچ نے بتایا کہ ہمارے گاوں میں ہندو مسلم کا بھید بھاو نہیں ہے ۔ یہاں کے ہندو اس طرح کے معاملات میں پڑتے ہی نہیں ۔ یہ تنازعہ کھڑا کرنے والے "بہت ہی اچھے " لوگ ہیں ۔ خدا ان کا بھلا کرے ۔ 


Share: